پاکستان کے راستے کی مجبوری ختم،افغانستان اور بھارت نے حل ڈھونڈ نکالا،صرف چند ہفتے میں ہی کیا ہونیوالا ہے؟دھماکہ خیز اعلان

  منگل‬‮ 12 ستمبر‬‮ 2017  |  22:19

کابل/نئی دہلی (این این آئی)افغانستان کے وزیر خارجہ نے بھارتی حکومت سے ایران کے چاہ بہار پورٹ کے تعمیراتی کام کو جلد مکمل کرنے کا کہا ہے جس کے ذریعے پاکستان کو نظر انداز کرتے ہوئے وسطی ایشیا تک تجارتی روٹ قائم کیا جاسکے گا۔ مذکورہ پورٹ بھارت کو اس حوالے سے مدد فراہم کرے گا کہ وہ پاکستان کے بغیر سمندر کے ذریعے افغانستان کو اشیاء منتقل کرسکے، پاکستان اس وقت بھارت کو افغانستان میں تجارتی مال کی منتقلی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت فراہم نہیں کررہا۔گذشتہ سال بھارت نے ایران کی چاہ بہار پورٹ کی

تعمیر کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا تھا اس منصوبے میں پورٹ سے منسلک روڈ اور ریل لائن بھی شامل ہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق بھارت کی خارجہ امور کی وزیر سشما سوراج نے افغانستان کے اس مطالبے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے پورٹ پر تعمیراتی کام تیز کیا جائے گا اور ہفتوں میں افغانستان کو چاہ بہار کے ذریعے گندم کی منتقلی شروع کردی جائے گی۔بھارت کے دورے پر موجود افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے بھارت سے جون میں دونوں ممالک کے درمیان متعارف کرائی گئی ایئر فریٹ کوریڈور میں توسیع کرنے کے لیے بھی کہا، جس کا مقصد انڈین مارکیٹس میں افغان اشیاء کی جلد منتقلی ہے۔سشما سوراج نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت اور افغانستان نے ’نئی تعمیراتی شراکت‘ کو مشترکہ طور پر منظور کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 100 نئے تعمیراتی منصوبوں پر فوری طور پر مشترکہ عمل درآمد کیا جائے گا۔سشما سوراج کا کہنا تھا کہ بھارت، کابل کو صاف پانی کی فراہمی، وطن واپس لوٹنے والے مہاجرین کے لیے سستے مکانات، چاریکار شہر کے لیے صاف پانی کی فراہمی کا نیٹ ورک اور مزار شریف میں ایک پولی کلینک کے قیام کے منصوبوں میں مدد فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ بھارت افغانستان میں انسانی صلاحتیں بڑھانے اور مہارت، خاص طور پر تعلیم، صحت، زراعت، توانائی، انتظامیہ اور وسائل سے متعلق بھی افغانستان کو مدد فراہم کرے گا۔اس موقع پر افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے اپنی سیکیورٹی اور دفاع کو مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں