پیرس حملہ،ہلاک ہونیوالا مسلمان کا بیٹا مگرچرس اور شراب کا عادی تھا، زندگی میں کبھی نماز تک نہیں پڑھی،حیرت انگیزانکشافات

  پیر‬‮ 20 مارچ‬‮ 2017  |  18:29
پیرس(آئی این پی)فرانس کے اورلی ہوائی اڈے پر فوجی سے بندوق چھیننے اور جوابی کارروائی میں مارے جانے والے مشتبہ شدت پسند زیاد بن القاسم کے والد نے کہاہے کہ میرا بیٹا دہشت گرد نہیں تھا،اس نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ منشیات کے استعمال شراب نوشی اور چرس کا نتیجہ ہے۔فرانسیسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے یورپ ون ریڈیو سے بات کرتے ہوئے مقتول بن القاسم کے والد نے کہا کہ اس کا بیٹا دہشت گرد نہیں تھا۔اس نے زندگی میں کبھی نماز تک ادا نہیں کی۔ وہ شراب پیتا اور چرس استعمال کرتا تھا۔ اس نے
جو کچھ کیا وہ اس منشیات کے استعمال کا نتیجہ تھا۔مقتول مشتبہ حملہ آور کے والد نے بتایا کہ زیاد بن القاسم نے اورلی ہوائی اڈے کی طرف روانگی سے قبل مجھ سے رابطہ کیا۔ وہ سخت اضطراب میں تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ آپ نے پولیس افسر کے معاملے میں غلطی کی، اب آپ مجھے اجازت دیں اس کے ساتھ ہی اس نے فون بند کیا، ایک کار چوری کرنے کے بعد ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد بن القاسم کے والد نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔ اسی اثنا میں اس کے بیٹے کے قتل کی خبر بھی آگئی تھی۔خیال رہے کہ زیاد بن القاسم نے ہفتے کے روز جنوبی فرانس کے اورلی ہوائی اڈے میں داخل ہوکر ایک پولیس اہلکار سے اس کی بندوق چھین لی تھی، جس پر دوسے اہلکاروں نے فوری کارروائی کر کے اسے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بن القاسم نے بندوق چھیننے کے بعد اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور ساتھ ہی اس نے کہا کہ وہ اللہ کی خاطر مرنے کے لیے آیا ہے۔دریں اثناء فرانس میں حکام کا کہنا ہے کہ شنیعر کو پیرس کے اورلی ہوائی اڈے پر حملہ کرنے والے شخص کے خون کے نمونے سے شراب اور منشیات کے استعمال کے شواہد ملے ہیں،39 سالہ زاید بن بلغاسم نامی شخص نے ہوائی اڈے پر ایک خاتون فوجی کے سر پربندوق تان لی تھی جس کے بعد انھیں گولی مار دی گئی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی ٹاکسیکالوجی رپورٹ کے مطابق انھوں نے کوکین اور کینیبس استعمال کی تھی۔یاد رہے کہ ہفتے کو زاید بن بلغاسم پیرس میں فائرنگ کے ایک واقعے اور کار چوری میں بھی ملوث تھا۔زاید بن بلغاسم کو ماضی میں شدت پسندی کے حوالے سے رپورٹ کیا جا چکا تھا اور وہ اس حملے سے قبل سیکورٹی اداروں کی واچ لسٹ پر بھی تھا۔پیرس میں پراسکوٹر فرینسز مولنز کا کہنا ہے کہ زاید بن بلغاسم ماضی میں ڈکیتیوں اور منشیات فروشی کے جرائم میں بھی ملوث رہا ہے۔خیال کیا جا رہا ہے کہ جیل میں سزا کاٹنے کے دوران وہ اسلامی شدت پسندی کی طرف مائل ہوا۔یاد رہے کہ یہ حملے ایک ایسے وقت ہوا ہے جب فرانس میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور ملک ایمرجنسی کی صورتحال میں ہے۔اورلی ہوائی اڈے پر تعینات فوجی آپریشن سنٹینل کا حصہ تھے جنھیں جنوری 2015 میں چارلی ہیبڈو حملوں اور نومبر 2015 میں پیرس حملوں کے بعد پولیس کی مدد کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔اس واقعے کے بعد ہوائی اڈے کے پیشتر حصوں کو خالی کروا لیا گیا تھا۔ گولیوں کی آواز سننے کے بعد جہازوں میں سوار مسافروں کو اترنے سے روک دیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران تقریبا 3000 مسافر اور متعدد پروازیں متاثر ہوئیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق ٹرمینل کو کھول دیا گیا ہے اور معمول کی پروازیں بحال ہوگئی ہیں۔یہ ہوائی اڈہ پیرس کا دوسرا بڑا ہوائی اڈہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

0

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔