ذہنی طور پر مضبوط افراد کی 11دلچسپ عادتیں

  اتوار‬‮ 12 ‬‮نومبر‬‮ 2017  |  22:27

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ذہنی طور پر مضبوط افراد عام طور پر اپنے جذبات کا اظہار اس انداز میں نہیں کرتے جیسے ہم یا آپ کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی مضبوطی کو تشکیل دینا تین نکاتی حکمت عملی ہے یعنی اپنے خیالات، رویے اور جذبات کو کنٹرول کرنا۔یہاں ایسی چند ایسی چیزوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جو ذہنی طور پر مضبوط افراد نہیں کرتے۔ وہ خود سے معذرت پر وقت ضائع نہیں کرتے خودترسی تباہ کن اور منفی جذبات کو پیدا کرتی ہے۔خودترسی کو شکرگزاری کے احساس سے ختم کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ وہ

اپنی طاقت پر گرفت مضبوط رکھتے ہیں یعنی اپنے لیے اٹھ کھڑے ہو، اہنے مقاصد کو سمجھیں اور اس کے لیے کام کریں۔ وہ تبدیلی سے گھبراتے نہیں نئی چیزیں یا تجربات خوفزدہ تو کرسکتے ہیں مگر ان سے گھبرانا ترقی کے راستے بند کردیتا ہے اور دیگر افراد آپ کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ ان چیزوں کے بارے میں نہیں سوچتے جو ان کے کنٹرول میں نہ ہو درحقیقت ہر چیز کو کنٹرول میں لینے کی کوشش کرینا ذہنی بے چینی کا باعث بنتا ہے اس کے برعکس کیا کچھ کرسکتے ہیں اس پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ وہ دوسروں کو مطمئن ہونے یا نہ ہونے کی پروا نہیں کرتے اگر آپ دیگر افراد کے خیالات کی بنیاد پر خود کو جج کرنا چھوڑ دیں تو زیادہ مضبوط اور بااعتماد ہوسکتے ہیں۔ وہ ماضی میں کھو کر وقت صرف نہیں کرتے اس سے کچھ بھی حل نہیں ہوتا بلکہ ڈپریشن کی جانب راستہ کھل جاتا ہے، اس کی بجائے حال سے لطف اٹھائیں اور مستقبل کا منصوبہ بنائیں۔ وہ ایک ہی غلطی بار بار نہیں کرتے اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کریں اور غور فکر سے کوئی منصوبہ تحریر کریں تاکہ مستقبل میں وہی غلطی دوبارہ نہ ہو۔ وہ دیگر افراد کی کامیابی سے حسد نہیں کرتے اگر آپ کامیاب بھی ہوجائیں اور ہمیشہ دوسروں کی کامیابیوں سے موزانہ کرتے رہیں تو حقیقی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔وہ پہلی ناکامی پر کبھی ہار نہیں مانتے کامیابی فوری نہیں ملتی اور ناکامی ہمیشہ ایک رکاوٹ ثابت ہوتی ہے جس کو عبور کرنا ہوتا ہے۔ وہ تنہا وقت گزارنے سے خوفزدہ نہیں ہوتے تنہائی آپ کو ترقی پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں تخلیقی اور دیگر صلاحیتوں کو بھی تقویت ملتی ہے۔ وہ فوری نتائج کی توقع نہیں کرتے اپنے طویل المعیاد مقاصد کے لیے بلاتکان کام کرنا، اپنی پیشرفت کا جائزہ لینا اور بڑے منظرنامے کو دیکھنا زیادہ اہم ہوتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں