دنیا کے سب سے بڑے دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے جو اس سے چھ گنا بڑا ہے اور اس کا پانی کہاں جاتا ہے؟

  جمعہ‬‮ 14 جولائی‬‮ 2017  |  16:47

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) دور حاضر میں جد ید ٹیکنا لوجی کی مدد سے کسی بھی قسم کی معلوما ت حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں، لیکن دنیا سے متعلق چند دلچسپ حقائق ایسے ہیں جن سے عام آدمی آج بھی نا واقف ہے۔ دنیا کی موجودہ آبادی روزانہ 400 بلین گیلن پانی استعمال کرتی ہے۔دنیا میں موجود پانی کا صرف 3 فیصد حصہ قابل استعمال ہے جس میں سے 1 فیصد زیرزمین اور دریائوں میں پایا جاتا اور 2 فیصد پہاڑوں پر گلیشیرز کی صورت میں جامد ہے۔ جبکہ 97 فیصد پانی نمکین ہے۔ایک بہت بڑا زیر زمین دریا، مشہور

دریائے نیل کے نیچے بہتا ہے جو اوپر بہنے والے دریا سے 6 گنا بڑا ہے، اس کا پانی زیر زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھتا ہے ۔ اگر سمندر کا پانی صاف ہو تو سورج کی روشنی 240 فٹ کی گہرائی تک پہنچ سکتی ہے۔ خلیج فارس دنیا کا سب سے گرم سمندر ہے۔ گرمیوں میں اس سمندر کا درجہ حرارت 35.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔چاند صحرائے گوبی سے ایک ملین گنا زیادہ خشک سیارہ ہے۔ زمین خلا میں 67000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ براعظم ایشیا دنیا کی 60 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے لیکن اس براعظم کا رقبہ دنیا کے کل رقبے کا صرف 30 فیصد ہے۔ دنیا کا سب سے تباہ کن زلزلہ 1557ء میں وسطی ایشیا میں آیا جس میں 8 لاکھ 40 ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجل بنے۔ زمین کی سطح کا کل رقبہ 197ملین سکوائر ہے۔ زمین پر 540 آتش فشاں پہاڑ موجود ہیں لیکن جدید ٹیکنالوجی اور سائنس کے باوجود زیر آب کتنے آتش فشاں پہاڑ ہیں اور ان کے پھٹنے کا وقت کیا ہے اس کا اندازہ کسی کو بھی نہیں ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔