مردہ شخص کا دماغ اُس وقت تک کام کرتا ہے جب تک وہ اپنی موت کو تسلیم نہ کرلے : محققین

  جمعرات‬‮ 6 دسمبر‬‮ 2018  |  15:20

یورپ، امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک)  کیا انسان کو روح قبض ہونے کے بعد کوئی احساس ہوتا ہے؟ یہ ایک طویل بحث ہے جس کا حتمی نتیجہ ابھی تک سامنے نہیں آسکا۔ طبی ماہرین اور محققین نے مختلف تحقیقات کر کے نتائج اخذ کرنے کی کوشش بھی کی اسی طرح یورپ اور امریکا کےسائنسی ماہرین نے ایک اور مطالعاتی تجزیہ کیا۔ ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ’مرنے کے بعد انسان کا دماغ کام کرتا ہے اور انہیں اپنی موت کا خود بھی احساس ہوتا ہے‘۔ حالیہ تحقیق میں امریکا اور یورپین ممالک کے ایسے کیسز کو شامل میں کیا گیا جن کی

اموات دل کے دورے کے باعث ہوئیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اب وہ حتمی نتیجے تک پہنچ گئے ہیں۔ ڈاکٹر سیم پارینو کا کہنا ہے کہ ’تحقیق میں شامل کیے جانے والے افراد اپنی موت سے قبل ارد گرد کے حالات سے بخوبی واقف تھے اور وہ دیکھ رہے تھے کہ ڈاکٹرز اُسے بچانے کی کوشش کررہے ہیں‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’جب انسان کا دل کام کرنا بند کردیتا ہے اُس کے بعد بھی وہ اپنے ارد گرد جمع ہونے والے لوگوں کی آواز کو نہ صرف سنتا ہے بلکہ انہیں ویسے ہی پہچانتا بھی ہے‘۔ ڈاکٹر سیم کا کہنا ہے کہ ’آخری وقت میں انسان کو اپنی موت کا علم ہوجاتا ہے اور اُسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ زندگی کی بازی ہارنے جارہا ہے‘۔ اُن کا کہنا تھاکہ ’میڈیکل کی تعلیم کے مطابق انسان کا دل بند ہوجائے تو وہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے، مگر دھڑکن بند ہونے سے صرف خون کی روانی رکتی ہے اور دماغ اُسی طرح کام کرتا رہتا ہے‘۔ محقق کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’مردہ شخص کا دماغ اُس وقت تک کام کرتا ہے جب تک وہ اپنی موت کو تسلیم نہ کرلے، عام طور پر دو سے چار گھنٹے بعد دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے‘۔ نیویارک بروک یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر پارینہ کا کہنا ہے کہ اُن کی ٹیم نے تحقیق کے دوران عارضہ قلب میں مبتلا افراد کو بہتر طبی سہولیات فراہم کیں پھر بھی کچھ کی اموات واقع ہوئیں۔ پارینہ کا کہنا ہے کہ ’جب آپ موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں تو دماغ تسلیم نہیں کرتا مگر کچھ گھنٹوں بعد اُسے ماننا پڑتا ہےکہ اب کچھ بھی باقی نہیں رہا، اس کے بعد ہی انسان کی موت واقع ہوتی ہے‘۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں