اقوام متحدہ کا خواتین کی ’ورجنٹی ٹیسٹنگ‘ پر پابندی کا مطالبہ

21  اکتوبر‬‮  2018

برازیل (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ نے ورجنٹی ٹیسٹنگ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر سائنسی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں عالمی کانگریس برائے گائنا کالوجی اینڈ اوبسٹیٹرکس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق خواتین کی ورجنٹی ٹیسٹنگ یا عام اصطلاح میں جسے ‘ٹو فنگر ٹیسٹنگ’ بھی کہا جاتا ہے، کو طبی طور پر

غیر ضروری اور کئی مواقع پر درد ناک اقدام قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل قدیم روایات پر بنے تقریباً 20 کے قریب ممالک میں انجام دیا جاتا ہے جس میں خواتین کو مختلف وجوہات کی بناء پر ورجنٹی ٹیسٹنگ سے گزرنا پڑتا ہے جس میں والدین، شادی کے خواہاں افراد یا پھر غلامی پر لڑکیوں کو رکھنے والے افراد کی جانب سے ایسے ٹیسٹ کا مطالبہ سامنے آتا ہے۔  اس کے علاوہ اس عمل کو ڈاکٹرز، پولیس افسران یا کمیونٹی سربراہان کی جانب سے خواتین پر کیا جاتا ہے تاکہ ان کی سماجی حیثیت اور غیرت کو جانچا جا سکے۔ اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے ایجنسیوں نے وضاحت دی کہ اس عمل کی کوئی سائنسی حیثیت نہیں اور کسی بھی معائنے سے خواتین کی غیرت کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ایجنسیاں ورجنٹی ٹیسٹنگ، جو خواتین کے حقوق کے خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے، اور یہ ان کی جسمانی، ذہنی و سماجی شخصیت پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل انتہائی درد ناک، شرمناک اور جرحی ثابت ہوسکتا ہے اور یہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کی مثال ہے۔ اقوام متحدہ کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ کچھ علاقوں میں ریپ سے متاثرہ خواتین کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کے لیے بھی اس عمل کو انجام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ عمل انتہائی غیر ضروری ہے اور اس سے خواتین کو نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، ڈاکٹروں کی جانب سے یہ عمل غیر اخلاقی ہے، اس طرح کا عمل کبھی ہونا ہی نہیں چاہیے۔ انہوں نے اس عمل کو انجام دینے والی سوسائٹیز کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ عالمی ادارہ صحت کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر پرنسس سیمی لیلا کا کہنا تھا کہ ’صحت سے تعلق رکھنے والے حکام ایسے معاشرے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتوں اور صحت کے اداروں کے تعاون سے لوگوں کو تعلیم دی جانی چاہیے کہ ورجنٹی ٹیسٹنگ کو میڈیکل بنیادوں پر نہیں کیا جاسکتا اور اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

موضوعات:



کالم



سرمایہ منتوں سے نہیں آتا


آج سے دس سال قبل میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ…

اللہ کے حوالے

سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…

اصفہان میں ایک دن

اصفہان کاشان سے دو گھنٹے کی ڈرائیور پر واقع ہے‘…

کاشان کے گلابوں میں

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے‘ یہ سارا…

شاہ ایران کے محلات

ہم نے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

امام خمینی کے گھر میں

تہران کے مال آف ایران نے مجھے واقعی متاثر کیا…

تہران میں تین دن

تہران مشہد سے 900کلو میٹر کے فاصلے پر ہے لہٰذا…