پنجاب نے کس شعبے میں خیبرپختونخوا کو مات دے دی، پاکستان ڈویلپمنٹ اپڈیٹ نے رپورٹ جاری کر دی

  اتوار‬‮ 16 جولائی‬‮ 2017  |  18:53

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ورلڈ بنک کی پاکستان ڈویلپمنٹ اپڈیٹ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب مجموعی طور پر ہیلتھ انڈیکیٹرز میں باقی صوبوں کی نسبت آگے ہے۔اور اِسی طرح حکومت پنجاب صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے ماں اور بچے کی اچھی صحت پر خصوصی توجہ دینے کے حوالے سے بھی باقی تمام صوبوں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے، جسے ہرسطح ہرمقام ہرفورم پر سراہا جاتا ہے۔زچہ بچہ کی شرح اموات کو کم کرنےاور اچھی دیکھ بھال کیلئے حکومت پنجاب کے قابل تحسین انقلابی اقدامات کے سرسری کا جائزہ کے مطابق1000بنیادی مراکز صحت24/7گھنٹے خواتین کو لیبر روم کی سہولت فراہم

کر رہے ہیں، پہلے مذکورہ بی ایچ یوز پر تقریباً دس ہزار ڈیلیوریز ماہانہ تھیں جس میں بڑھ کر اب چار گناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ تربیت یافتہ برتھ اٹینڈنٹ میں 78%تک اضافہ بھی کر دیا گیا ہے جبکہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کمیشن نے بچوں اور حاملہ خواتین میں غذائیت کی کمی دور کرنے کیلئے خصوصی پروگرام کا بھی آغاز کیا ہے۔اس کے علاوہ حاملہ خواتین کو گھروں سے ہسپتالوں کیلئے رورل ایمبولینس سروس شروع کی گئیں ہیں۔ رورل ایمبولینس سروس میں 193ایمبولینس کا بھی اضافہ کیا جا چکا ہے۔ مزید براں تمام ایمبولینسس کی ریسکیو1122کے ذریعے بھی نئی مینجمنٹ کاآغاز بھی کیا گیا ہے۔ نئے مالی سال میں ایک ارب روپے کی ابتدائی رقم سے جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں میں جہاں علاج معالجہ کی عام سہولتوں کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا مزید جدید ترین تمام بنیادی طبی سہولیات سے لیس100موبائل ہیلتھ یونٹس کی فراہمی بھی شامل ہے۔حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کی بات کی جائے توکارکردگی کی بنیاد پر ملک بھر میں سب سے بہتر کارکردگری صوبہ پنجاب کی ہی رہی ہے۔بہتر حکمت عملی کی بدولت پنجاب میں حاملہ خواتین اورنوزائیدہ بچوں میں تشنج کی بیماری کا بالکل خاتمہ کر دیا ہے۔جس کی عالمی ادارہ صحت اور یونیسف نے تصدیق بھی کی ہے۔پاکستان میں پہلی بار صوبہ پنجاب نے ہی روٹا وائرس ویکسین کا اجراء کیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں ہنگامی بنیادوں پر ہیپاٹائٹس بی کی ویکسینیشن کی گئی ہے۔بچوں میں خناق کی بیماری کی روک تھام کیلئے حفاظتی ویکسین کیلئے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کیلئے پنجاب میں ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز پانچ بڑھے شہروں میں اپنی خدمات باخوبی سرانجام دے رہی ہیں۔عوام میں شعور اُجاگر کرنے کیلئے ماں اور بچے کے اچھی صحت کیلئے خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز بھی اپنے ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھا لے رہے ہیں۔ دوسری جانب زچہ بچہ کی نگہداشت کے حوالے سے تبدیلی کے دعوے داروں کے صوبہ خیبرپختونخواہ کا ذکر کریں اور انتہائی دُکھ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے جس صوبے نے تبدیلی کے نام پر عمران خان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اُن کا کوئی بھی پُرسانِ حال نہیں۔آئے دن صحت و تعلیم کے میدان میں انقلاب برپا کرنے کے صرف بلندوبانگ نعرے لگائے جاتے ہیں،مگر عملاً کچھ نظر نہیں آرہا۔غیر تجربہ کار سیاسی جماعت تحریک انصاف اِس بات سے سراسر ناواقف ہے کہ جھوٹے اعدادوشمار سے عوام کو تسلی تو دی جا سکتی ہے مگر حقائق کو آج کے آزاد میڈیا سے کسی صورت چھپایا نہیں جا سکتا ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخواہ میں سرکاری ہسپتالوں میں تین ماہ میں 3500 بچے اور 150 مائیں جان کی بازی ہارگئے جبکہ صرف بنوں میں سب سے زیادہ 723بچوں کی اموات رپورٹ ہوئیں ہیں یہ اموات دوران زچگی اور پیدائش کے فوراً ہوئیں ہیں۔یہ صورت حال نہا یت ہی تشویش ناک ہے۔تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے کہ خیبرپختونخواہ میں نعرہ اور دعوؤں کی سیاست سے نکل کر عوام کے فلاحی کاموں کے حوالے سے عملی اقدامات بھی کرے۔ اگر اِس میدان میں تجربہ کار افراد کی کمی ہے تو حکومت پنجاب سے رجوع کریں۔مجھے قوی اُمید ہے حکومت پنجاب خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کراپنے پختون بہنوں اور بچوں کے تحفظ اور اچھی صحت کیلئے اپنی پوری توانائی کے ساتھ تعاون کرے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔