سی پیک میں شمولیت کا اعلان، پاکستان اور چین جب چاہیں کسی بھی وقت ہم ان کیلئے یہ کام کرنے کیلئے تیار ہیں، ایران نے بڑی پیشکش کردی

  منگل‬‮ 13 مارچ‬‮ 2018  |  23:14

اسلام آباد(آن لائن) ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کی سرحد تک کسی بھی وقت گیس فراہم کرنے کے لئے تیا رہے ایران چاہے تو گوادر کے ذریعے سی پیک کا حصہ بن سکتا ہے چین کے ساتھ بھی گیس کے منصوبوں کے لئے تیار ہیں شام اور عراق میں شکست کے بعد کچھ قوتوں نے داعش کو افغانستان اور خطے میں منتقل کیا سعودی عرب کو سمجھنا ہو گا کہ جو قوتیں اس نے بنائی ان کے لئے بھی خطرہ بن چکی ہے پاکستان پہ اعتماد ہے جوکبھی خطے میں عدم استحکام نہیں ہو

نے دے گا ہم اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کو خطے سے بے دخل نہیں کر سکتے ایک دوسرے سے تعاون کر کے داعش سے نمٹا جا سکتا ہے اور ہم اقوام متحدہ کے تعاون سے مسئلے کا حل نکالنے میں کامیاب ہوں گے ۔نجی ٹی وی کو دےئے گئے انٹر ویو میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے پاکستانی عوام کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کی جذباتی وابستگی دونوں ملکوں کے 70 سالہ تعلقات ہیں ایران وہ پہلا ملک ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا دونوں ملکوں کے تعلقات میں مثبت ۔۔ کرتے رہے مگر ہم اپنے تعلقات کو نبھاتے رہے گے انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائب لائن منصوبہ پر ایران نے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ اس منصوبے کے حل کو دوستوں سے بات چیت کے ذریعے حل کریں گے اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم سیاس مسئلے پر بات کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تمام مسائل حل ہونے چاہیں پائپ لائن دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے ہم پاکستان کو توانائی کی سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو توانائی بھی گیس اور بجلی کے ذرائع فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں امید ہے گیس کی طرح بجلی کی فراہمی کے منصوبے بھی آگے بڑھ سکتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ پاک ایران پائپ لائن منصوبہ اپنی جگہ پر موجو د ہے ہم پاکستان کی سرحد تک کسی بھی وقت گیس کی فراہمی کے لئے تیا رہیں یہ منصوبہ 2014 میں مکمل ہونا طے پایا تھاامید ہے جلد ایسا ہو جائے گا ایک سوال پر کہاکہ اس میں چین کے ساتھ بھی اس طرح کے منصوبوں میں کسی بھی تسلیم کے تعاون کے لئے تیار ہیں اور پاکستان اور چین دونوں کے لئے اس طرح کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لئے تیار ہیں انہوں نے کہا ہے کہ خطے کی اقتصادی ترقی اور نوٹس لے اس خطے میں بد امنی کی وجہ سے انتہا پسندی اور دکھ فروغ ہے یہ ضروری ہے کہ گوادر اور چاہ بہار منصوبے مکمل ہوں اور خطے مےٖں خوشحالی اور سیکیورٹی کو فروٖغ ہے ہم پاک چین اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں کا حصہ بننے کے لئے تیا رہیں ایران پاک چائنا اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کے لئے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ چاہ بہار اور گوادر اور بندرگاہ ایک دوسرے کی معاون ہیں چاہ بہار اور گوادر کے منسلک ہونے سے خطے کی کمیونٹی کی ضروریات پوری ہوں گی انہوں نے کہا کہ بھارت چاہ بہار میں ایران کا پارٹنر ہے یہ پارٹنر شپ خصوصی نہیں چاہ بہار پاکستان چین اور دیگر ممالک کی سرمایہ کاری کے لئے اوپن ہے ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں ایک سوال یہ کیا کہ افغانستان میں عدم استحکام سے پاکستان اور ایران متاثر ہوئے ہیں افآنستان میں فریقین کے درمیان بات چیت اوراستحکام یقینی بنانے میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے انتہا پسندی کسی چیز کو تسلم نہیں کرتی امید ہے پاکسان اور ا یران خطے میں استحکام کے لئے مل کر کام کر سکیں گے تا کہ تشدد کم ہو سکے ۔ تشدد پاکستان افغانستان ، ایران ، یا کسی بھی جگہ ہو رہے ہیں مل کر ختم کرنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی ہے داعش کے دھشت گر د شام اور عراق سے اس خطے میں منتقل ہو گئے یہ ہر جگہ خطرہ بن رہے ہیں اور ہمیں اس خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے ہی داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں بد قسمتی سے جہاں شام او رعراق میں داعش کو شکست ہو رہی ہے اس میں وہاں افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک میں مشغل کر دیا گیا ہم جانتے ہیں کہ کون سی قوتیں داعش کو سپورٹ کرتی ہےٖں اور کون اس کے پیچھے ہیں فطری میڈیا کے مطابق داعش کے پاس امریکی اسلحہ ہے شاہد وہ ان کے لئے کام کرتے ہیں جو ان کے پانے مفاد میں بھی نہیں داعش نے اپنے آقاؤں کو بھی دھمکایا ہے ا سلئے یہ اس شخص کے لئے بیداری کا وقت ہے انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے سعودی عرب نے ایران کو اتحاد سے باہر رکھنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے حالانکہ ایران دھشت گردی اور انتہا پسندی سے لڑنے کے لئے سب سے آگے رہا ہےجب کہ سعودی عرب کا اپنا ریکارڈ نہیں رہا ہے امید ہے ک عرب سمجھ جائے گا کہ جو فورسز خود اس نے بنائی ہیں انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سعودی عرب کی بھی دشمن بن چکی ہیں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا استحکام ہماری مفاد میں ہے خطے میں استحکام کے لئے کسی حکومت کو مجبور کرنے کی ضرورت نہیں ہم اپنے حجم اور انسانی مسائل سے مطمئن ہیں ہمیں اپنا رقبہ بڑھانے کیلئے دائیں بائیں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ایک مستحکم ہمسایہ چاہئے سعودی عرب کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی 1985 میں ہماری پیش کش سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تھی سیکیورٹی خریدی نہیں جاسکتی سیکیورٹی کوفوس بنیادوں کی ضرورت ہو تی ہے ہم کس دوسرے پر اعتماد کرنے کی بجائے اپنے عوام کو خود بہتر سیکیورٹی فراہم کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی ایران سعودی عرب تعلقات بہتر کرنے کی پیش کش کا خیر مقدم کیا بدقسمتی سعودی عرب نے تجویز کو پذیرائی نہیں دی پاکستان تعلقات بہتر کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے پاکستان پر اعتماد ہے یہ خطے کے استحکام کو بھی نقصان نہیں پہنچائے گا ایران ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جس سے پاکستان کو نقصان ہو اور نہ ہی اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت دے گا اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہو گا کہ سعودی عرب اور ایران اپنے آپ کو خطے سے بے دخل نہیں کر سکتے امید ہے دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آئیں گے سعودی عرب اختلافات ختم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے دروازہ کھلا ملے گا سعودی عرب تصادم اور عراق کا بہانہ کرے گا اور مسلم ممالک کے خلاف اسرائیل پر بطور اتحادی انحصار کرے گا تو ایسا نہیں ہو سکتا انہوں نے کہا کہ امریکہ سعودی عرب کا دوست نہیں وہ سرعام کہ رہیں ہیں کہ سعودی عرب سے مفاد اٹھا رہے ہےٖں انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا فوجی حل نہیں جنگوں میں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ملک ہتھیار دھشت گردوں کے ہاتھ لگنے ہیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ شام ہو یا یمن یا کوئی اور ملک ہمیں ہر مسئلے کا سیاسی حل نکالناہو گا شام اور یمن کیلئے 4 نکاتی فارمولہ دیا جس میں جنگ بندی فوجی اتحاد کی حکومت آئینی اصلاحات اور انتخابات شامل ہیں اور اپنی ان ممالک کے مسائل کا حل ہے انہوں نے کہا کہ دھشت گردوں کے زریعے خلافت کا قیام سعودی عرب پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے لئے تباہی کا مقام ہوگا جلدوزارتی سطح پر ملاقات کریں گے۔ ایران ترکی اور روس شام میں قیام امن کیلئے اپنا کردار جاری رکھیں گے اور امید ہے کہ اقوام متحدہ کے تعاون سے مسئلے کا سیاسی حل نکالنے میں کامیاب ہوں گے انہوں نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے میں پاکستانیوں سے اعلیٰ سطح پر بات ہوئی ہمارے پاس جو اطلاعات تھیں وہ پاکستان کو فراہم کی اور تعاون کے لئے تیار ہیں ہم ایران کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے انہوں نے کہا کہ سرحد پر دھشت گردی کا سامنا رہتا ہے پاکستان فورسز کے تعاون سے یہ کوشش ناکام بنا دی گئی انہوں نے کہا کہ سرحد یہ اس ایران وں کی شہادت کے بعد دونوں ممالک کا تعاون بڑھانے کے لئے اعلیٰ سطح پر اہم سطح پر بات چیت میں اس بات پر اتفاق کیا کہ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں